منگلورو 5/ مارچ (ایس او نیوز) کار اسٹریٹ پر واقع دیانند پائی اور ستیش پائی گورنمنٹ کالجوں میں مسلم طالبات اپنے سر ڈھک کر امتحانات کے لئے حاضر ہونے پر بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی سے وابستہ طالب علموں نے باحجاب مسلم طالبات کے خلاف جو ہنگامہ کھڑا کیا تھا اس کے نتیجہ میں بدامنی پیدا ہونے کے امکانات محسوس کرتے ہوئے ان کالجوں میں غیرمعینہ مدت کے لئے چھٹی کا اعلان کیا گیا ۔
بتایا جاتا ہے کہ اڈپی ضلع سے شروع ہونے والے حجاب تنازعہ کو اس کالج کے پرنسپال نے حکمت کے ساتھ سنبھالا تھا اور مسلم طالبات کو اپنے سر ڈھک کر کالج میں حاضر ہونے اور لائبریری میں بیٹھ کر اپنی پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت دی تھی ۔
حجابی طالبات کی ساتھی ہِبا شیخ کا کہنا ہے کہ پرنسپال نے انہیں باضابطہ حجاب کے بجائے ایک عام سے کپڑے سے سر ڈھانک کر امتحان ہال میں حاضر ہونے کی اجازت دی تھی ۔ مگر پرسوں جب وہ سب امتحان ہال میں جا کر بیٹھ گئیں تو اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے چار پانچ طالب علموں نے وہاں پہنچ کر تکرار شروع کی اور امتحان ہال سے باہر نکل جانے کو کہا ۔ اس سے بحث و مباحثہ اور زبانی تکرار شروع ہوگئی ۔ پھر کالج کے گیٹ پر متعلقہ لڑکوں اور مسلم طالبات کے درمیان زبانی جھڑپ ہوگئی جس کے بعد ماحول کشیدہ ہوگیا ۔ مگر پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کر لیا ۔ اس کے بعد مسلم طالبات نے مذکورہ طالب علموں کے خلاف بندر روڈ پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ شکایت درج کروائی ۔
حالات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ضلع ڈُپٹی کمشنر نے کالج کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کرنے اور امتحانات کو ملتوی کرنے کے احکام جاری کیے ۔